اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے حوزات علمیہ کے سربراہ آیت اللہ شیخ مرتضی مقتدائی نے آیتاللہ شیخ محمد علی العَمری کی وفات پر اپنے پیغام میں اس صدمے پر تعزیت پیش کی ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے: عالم مجاہد آیت اللہ شیخ محمد علی العَمری کے انتقال پر ملال نے عالم اسلام و تشیع کو سوگوار کیا اور اس جلیل القدر کی رحلت سے حوزات علمیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ آیت اللہ مقتدائی کے پیغام میں آیا ہے: یہ بزرگوار عالم دین سعودی عرب کی شیعیان اہل بیت (ع) نیز ان شیعہ زائرین و حجاج کرام کے لئے بہترین پناہگاہ تھے جو متعصب اور انتہاپسند دھڑوں کی نامہربانیوں سے اپنے زخمی قلوب کا مداوا کرنے کے لئے ان کی سادہ سی حسینیہ میں پناہ لیا کرتے تھے۔ اس پیغام میں مزید آیا ہے: آیت اللہ العَمری مکتب اہل بیت (ع) کے تحفظ و دفاع کے سلسلے میں صبر و تقوی اور زہد و استقامت کا قابل تقلید نمونہ تھے جنہوں نے اپنی پوری عمر شیعیان اہل بیت (ع) کے دفاع میں گذار دی ہے۔آیت اللہ شیخ مرتضی مقتدائی کے پیغام کے آخر میں آیا ہے: حوزات علمیہ کا مرکزی ادارہ اس ناقابل مداوا صدمے پر حضرت بقیة اللہ الاعظم(عج)، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، مراجع عظام اور علمائے اعلام، شیعیان مدینہ اور خاص طور پر مرحوم عالم دین کے فرزند ارجمند حجتالاسلام والمسلمین شیخ کاظم العَمری کی خدمت میں تسلیت و تعزیت عرض کرتا ہے اور اللہ تعالی سے التجا کرتا ہے کہ مرحوم کو رحمت و مغفرت اور ان کے پسماندگان کو صبر و اجر عنایت فرمائے۔ ........./110
26 جنوری 2011 - 20:30
News ID: 222944
حوزات علمیہ کے سربراہ آیت اللہ مرتضی مقتدائی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مرحوم عالم دین سعودی عرب کے شیعیان اہل بیت (ع)، اور ان شیعہ حجاج اور زائرین کے لئے بہترین پناہگاہ تھے جو وہابیت کے تعصبات کے نتیجے میں اپنے زخمی دلوں کے مداوا کے لئے ان کی حسینیہ میں پناہ لیا کرتے تھے۔